گذشتہ کچھ وقت سے رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ کافی گرمایا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا صدر دروازہ عوامی راستے میں ہے جس کہ سبب عوام کو مسائل کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے نا صرف اس گیٹ کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اب معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے۔

اس معاملے میں ایک وفد جس میں جماعتِ اسلامی ہند اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کے مرکزی ذمہ داران شامل تھے، نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سمیت اطراف کے رہائشی افراد و رامپور کے ضلع مجسٹریٹ روِندر کمار مندیر سے ملاقات کی۔ وفد کا مقصد مذکورہ معاملے میں بہتر حل کے تلاش کا مطالبہ تھا۔

سب سے پہلے وفد نے یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کر انکا موقف جاننے کی کوشش کی۔ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کے موقع پر ملک میں اقلیت طلبہ میں دیگر اقوام کی بہ نسبت اعلیٰ تعلیم سے متعلق پسماندگی پائی جاتی ہے اور بالخصوص ریاست اترپردیش میں یہ پسماندگی اور زیادہ دِکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں خدا ناخواستہ اگر جوہر یونیورسٹی بند ہوجاتی ہے یا اسے نقصان پہنچتا ہے تو طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہ جائے گی۔ انہوں نے مذید کہا کہ یہ ادارہ محض اقلیت کے لئے نہیں ہے بلکہ اقلیتی طلبہ کے علاوہ دیگر مذاہب کے طلباء بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور تعلیم ادارے تو سب کے لئے ہوتے ہیں لیکن ان کو اس طرح سے نقصان پہنچانا درست نہیں ہے۔ اگر زمین سے متعلق کوئی مسئلہ ہے تو اسے آپسی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ناکہ طلبہ کی تعلیم اور یونیورسٹی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہئے۔

ضلع مجسٹریٹ سے کی گئی ملاقات خوشگوار رہی اور انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے۔ ملک معتصم خان صاحب نے مزید کہا کہ یہ دورہ کسی شخصیت کے لیے نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارے کے لیے ہے۔ جس طرح حکومت دیگر تعلیمی اداروں کو مراعات دیتی ہے اسی طرح محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بقاء کے لیے بھی ضروری رعایت دی جائے۔

اس وفد میں انعام الرحمن صاحب، اسسٹنٹ سیکریٹری، (ملی امور) جماعت اسلامی ہند، مصعب قاضی، نیشنل سیکریٹری، ایس آئی او آف انڈیا، محمد خلیق صاحب، مدیر، انڈیا ٹمارو ڈاٹ نیٹ اور محمد حسیب صاحب، سابق رجسٹرار، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی شامل تھے۔